عز و جل
معنی
١ - غالب اور بزرگ (خدا تعالٰی کی صفت کے طور پر مستعمل)۔ "میرا دل آپ ہی آپ خدائے عز و جل کے حضور سربسجود ہو جانے کے لیے مچلنے لگتا تھا۔" ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ١١٠ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق مصدر 'عز' کے بعد 'و' بطور حرف عطف لگانے بعد عربی ہی سے مشتق اسم جل لگانے سے مرکب 'عز و جل' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - غالب اور بزرگ (خدا تعالٰی کی صفت کے طور پر مستعمل)۔ "میرا دل آپ ہی آپ خدائے عز و جل کے حضور سربسجود ہو جانے کے لیے مچلنے لگتا تھا۔" ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ١١٠ )